
پٹنہ:بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کے آئین میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں لیکن اقلیتی برادریوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ تیجسوی یادو نے یہ ریمارکس ہفتہ کو راجدھانی کے شری کرشنا میموریل ہال میں راشٹریہ جنتا دل کے اقلیتی سیل کی طرف سے منعقدہ ایک پروقار تقریب میں دیا۔
تیجسوی یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر کوئی ایک مقصد لے کر آیا ہے۔ ہم سب کو بوتھ کو مضبوط کرنا ہے۔ آپ سب کو ملک کے موجودہ حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک کے آئین کے بجائے آر ایس ایس کا آئین چاہتے ہیں۔ وہ جمہوریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں ہے۔ اگر کوئی اشتعال انگیز تقریر کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر میں نے بھی اشتعال انگیز تقریر کی تو میرے خلاف کارروائی کی جائے۔
مغربی بنگال کے رہنما ہمایوں کبیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے بی جے پی سے 1000 کروڑ روپے لئے۔ اب وہ سماجی تنازعات کو ہوا دے کر اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہے۔ آپ سب ویڈیو دیکھیں اور ان کے نظریے کو سمجھیں۔
تیجسوی یادو نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہم لالو پرساد کے بیٹے ہیں، یہ وہ بہار ہے جہاں لالو پرساد نے ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کو روکا اور انہیں گرفتار کیا، جب بھی تیجسوی امن و امان کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کو اب بھی یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اگر لالو پرساد نہیں جھکے تو، ان کا بیٹا کبھی جھک نہیں سکتا”۔
تیجسوی یادو نے بہار اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے نظریہ پر پختہ ہیں اور بی جے پی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔
مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اس حکومت نے کئی بار مختلف بل پیش کیے، ہم نے احتجاج کیا، ہم نے ہمیشہ اقلیتوں کو تباہ کرنے کے لیے پیش کیے گئے کسی بھی بل کی مخالفت کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ پہلے ہماری حکومت میں اقلیتی برادریوں کے 35 سے 40 ایم ایل اے تھے، اب ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہم اتنی بڑی تعداد میں ہیں، پارٹی کو مضبوط کرنا قائدین کی ذمہ داری ہے۔ جدوجہد کے اس وقت میں ہمیں فرقہ وارانہ طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہیے، سب کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ اشتعال انگیز باتیں کہی جائیں گی، وقت اتحاد کا تقاضا کرتا ہے، اگر کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تو ہم ان کو درست کرنے کے لیے کام کریں گے۔”

